ملازم کے سرکاری حقوق
سوال
زید جوتے کی تھوک فروش دوکان میں عرصه ۲۵ سال تک ملازمت خریداری حساب نویسی نہایت با ضابطگی اور دیانتداری سے انجام دیتا رہا، اور اب صحت کی خرابی کی بناء پر سبکدوشی حاصل کی اور اپنی متعینہ مابین تنخواہ ماہ بماہ لیتا رہا، سرکار نے ملازمین کے لئے خواہ سرکاری ہو یا پرائیویٹ دوکانوں کے کچھ حقوق علاوہ مشاہرہ کے قانوناً دوکان مالکان پر عائد کئے ہیں، ان حقوق میں سے ایک حبہ بھی زید کو فرم مذکورہ نے نہیں دیا، دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ آیا شرعاً عند اللہ فرم مذکور پر اس سرکاری حق ملازمت کی ادائیگی عائد ہوتی ہے یا نہیں؟
جواب
عند اللہ تو جو معاملہ مالک و ملازم کے درمیان طے ہوا اس کی ہی ذمہ داری ہے، سرکاری قانون جو کچھ ہو اس کی ذمہ داری صرف قانونی ذمہ داری ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔