الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کرایہ دار کا مالک کی زمین میں مکان بنانا

سوال

ایک شخص نے شیخ محمد خلیل کی بیوہ سے کرایہ پر ایک مکان لیا ہے، ورثاء اور بھی ہیں، جیسا کہ منسلک کاغذ سے ظاہر ہے، مگر شوہر کے انتقال کے بعد ان کے لڑکے شیخ بدر الحسن کا قبضہ ہے، جو دوسرے شوہر سے ہیں، مکان کے باہر بیٹھنے کی کوئی جگہ نہیں تھی، اس لئے انکی اجازت سے سامنے افتادہ زمین پر کچھ حصہ اپنے خرچ سے تعمیر کرالیا، اور کرایہ مقررہ برابر ادا کرتا رہا، بیوہ محمد خلیل صاحب کے انتقال کے بعد ان کے لڑکے شیخ بدرالحسن (جو دوسرے شوہر کے ہیں) کرایہ لیتے رہے، کچھ دن کے بعد شیخ محمد خلیل والا مکان پورے کا پورا منہدم ہو گیا۔

جواب

مکان کرایہ دار نے بنایا ہے، وہ تعمیر کا مالک ہے، زمین کے مالک مرحوم کے ورثاء ہیں، یا تو زمین کا کرایہ مقرر کر لیا جائے، اس کرایہ دار سے اس کو وصول کرتے رہیں، یا کرایہ دار سے کہا جاوے کہ وہ اپنی تعمیر وہاں سے ہٹا کر زمین خالی کر دے، یا تعمیر میں جس قدر اسباب موجود ہوں، اس کی قیمت (بصورت ملبہ مکان نہ کہ بصورت مکان تعمیر شده)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو