الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سرکاری ملازمت اور اس کی آمدنی

سوال

جن ملازم گورنمنٹ کو حکم شرع کا اختیار نہ ہو مثلاً تحصیلدار یا نائب تحصیلدار وغیرہ بظاہر یہ ” من لم يحكم بما انزل الله الآية “ کے مصداق ہیں، پھر ان کی ملازمت کے جواز کی کیا صورت ہو، اور انکا روپیہ دینی کاموں میں کس طرح پر صرف کرنا چاہئے؟

جواب

جن ملازمتوں میں خلاف شرع حکم کرنے پر گورنمنٹ کی طرف سے ملازم مجبور ہوتا ہے، وہ ملازمتیں اور ان کی آمدنی سب نا جائز ہیں، اگر تحصیلدار کا یہ حال ہے تو اس کا بھی یہی حکم ہے، ایسی ملازمت کا روپیہ دینی کاموں میں صرف کرنے کی صورت یہ ہے کہ کسی غریب مسکین کو دیدیا جائے، وہ از خود کسی دینی کام میں دیدے، بظاہر ہر ملازمت کا یہ حال نہیں تحقیق کر لی جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو