الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایسی ملازمت جس میں سود کا حساب بھی ہو

سوال

میں سرکاری ملازم ہوں، میرے کاروبار وظیفہ خوروں کو ادائیگی وظیفہ، ملازمین سرکار کی تنخواہ پر اندراجات و سفر خرچ کی تنقیح و اجرائے اسٹام، دستاویزی و عدالتی کی فراہمی و فروخت کا حساب ہے، ساتھ ساتھ بعض دفعہ میرے نوٹ پر سود کی اجرائی اور مختلف قرضہ جات کی سود کی رقم بذریعہ چالان جمع ہوتی ہے، تو اس طرح سود کی اجرائی اور سود کی رقم کے جمع سرکار ہونے کا حساب بھی وقتاً فوقتاً آ جاتا ہے، نیز اب لاٹری ٹکٹ کے حسابات کی ذمہ داری بھی سپرد کی گئی ہے، میں کثیر العیال ہوں، ملازمت چھوڑنے پر یقیناً والدمحترم مجھ سے ناراض ہوں گے،…

جواب

آپ کی اصل آمدنی تو جائز تھی، لیکن اب آپ کو اپنی جائز ملازمت میں کچھ ایسا کام بھی کرنا پڑتا ہے، جس کی شرعاً اجازت نہیں، جائز کام کے مقابلہ میں اگر دوسرا کام کم ہے، تو اپنی ملازمت ترک نہ کریں، اگر جائز کام کم ہو اور دوسرا کام زائد ہو تب بھی فوراً ملازمت ترک نہ کریں، مبادا کہ پریشانی کا سامنا ہو جو قابل برداشت نہ ہو، البتہ دوسری جائز کسب معاش تلاش کرتے رہیں، جب وہ میسر آجائے، تب…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو