الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

چنگی کی ملازمت

سوال

ایک شخص چنگی چوکی کا داروغہ ہے، اس کی نظر سے فضائل صدقات ص ۲۷ پر ایک حدیث گذری کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جس شخص کے پاس کوئی عذر کرے، اور وہ قبول نہ کرے، تو اس کو اتنا گناہ ہوتا ہے، جتنا کہ چنگی کے وصول کرنے والوں کو، اب داروغہ بہت پریشان ہے، کہ چنگی کی ملازمت کرے یا نہ کرے؟

جواب

شریعت نے ٹیکس کو حرام قرار دیا ہے، اور ٹیکس وصول کرنے والے کیلئے سخت وعید ہے، اسکی دعا بھی قبول نہیں ہوتی ہے آج کل چنگی کا حال بھی تقریباً ایسا ہی ہے، اس لئے جب دوسری ملازمت کو پالے یا گذارہ کی صورت ہو جائے، تو چنگی کی ملازمت نہ کی جائے، اگر ملازمت کر لی ہے، اور دوسری جائز ملازمت اس سے بہتر موجود ہے، تو چنگی کی ملازمت ترک کردی جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو