نکاح خوانی کی اجرت کس پر ہے؟
سوال
ہمارے یہاں نکاح خوانی کی کوئی اجرت نہیں لیکن نکاح کے بعد لڑکے والا کچھ نہ کچھ دیتا ہے، جو کہ اس کی مرضی پر ہوتا ہے، اور نکاح خواں لڑکی والے کی طرف سے بلایا جاتا ہے، یہ لین دین حضرت تھانوی کے فتویٰ کے اعتبار سے ناجائز ہے، حضرت فرماتے ہیں کہ اگر دینے والا دولہا والا ہو اور قاضی یا ملا کو دولہن والے بلا کر لے گئے ہوں، جبکہ ایسا ہی دستور ہے، تب تو لینا بالکل جائز نہیں، کیونکہ اجرت بذمہ بلانے والے کے تھی، دوسرے پر بار ڈالنا جائز نہیں، اور اگر بلانے والے بھی دولہا والے ہیں، تو نکاح خواں کو اس کا دیا ہوا جائز ہے، امداد…
جواب
جن اسباب کی بنا پر حضرت تھانوی نے ناجائز لکھا ہے، وہ اسباب موجود نہیں تو جائز ہے، یعنی جواز اصلی ہے، اور عدم جواز عارضی، جو عارض کے مرتفع ہو جانے سے ختم ہو جائے گا، جواز کی تصریح عالمگیری میں ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔