الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دنبل پر دم کرنے پر معاوضہ

سوال

(۱) زید کسی دنبل یعنی جس کو نکالا، یا بولا بھی کہتے ہیں وہ کسی طریقہ آیت یا علم سفلی سے دم کرتا ہے، ڈھیلا کاٹ دیتا ہے، اور مریض کو آرام ہو جاتا ہے، کسی کو نہیں ہوتا ہے، تو اس دم کرنے کے بعد زید دو سوا دو آنہ بطور شیرینی کے لیتا ہے، مریض سے تو یہ رقم کافی جمع ہو جاتی ہے، مسجد کے مصرف یعنی لوٹا، مصلی تیل، صف یا تعمیر وغیرہ میں خرچ کیا جاتا ہے، تو بکر کہتا ہے کہ یہ مصرف جائز نہیں ہے، مسجد میں یہ پیسہ نہیں لگا سکتے، کیونکہ اس میں ہندو کے پیسے بھی ہوتے ہیں، اس لئے نا جائز ہے۔ (۲)

جواب

(۱،۲) اگر آیت قرآنی پڑھ کر دم کرتا ہے اور اس کے عوض میں لیتا ہے، تو یہ درست ہے، پھر اس کو یہ بھی جائز ہے کہ وہ مسجد یا مدرسہ میں جہاں چاہے دیدے اور مسجد و مدرسہ دونوں جگہ اسکا صرف کرنا درست ہے، اگر کچھ اور پڑھ کر دم کرتا ہے، تو اس کے معلوم ہونے پر حکم تحریر کیا جائے گا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو