نکاح خوانی کی اجرت
سوال
في بلادنا عقد اجارہ کرنے والے لڑکی والے ہوتے ہیں، اور نکاح خوانی کی اجرت لڑکے والے قاضی جی کو دیتے ہیں، جس کو قاضی صاحب یا تو مدرسہ میں دیتے ہیں یا اپنے صرف میں لاتے ہیں، نکاح خوانی کی اجرت جائز ہے، یا رشوت میں داخل ہے، صورت رشوت و جواز کی بالتفصیل بیان فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں؟
جواب
نکاح خوانی کی اجرت درست ہے رشوت نہیں، بلکہ بعض جگہ قاضی مقرر ہوتے ہیں، ان کے درمیان کچھ معاملہ مقرر ہوتا ہے، کہ مثلاً ایک روپیہ چار آنہ ملا تو ایک روپیہ قاضی صاحب رکھیں گے اور ۴/ آنہ نائب کو دیں گے، پھر نکاح پڑھنے کے لئے عامۃً نائب جاتے ہیں، قاضی صاحب نہیں جاتے یہ نا جائز ہے، اور یہ ایک روپیہ رشوت ہے، اس کی پوری تفصیل مطلوب ہو تو امداد الفتاوی جلد سوم ملاحظہ کیجئے، اس میں اس…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔