الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تعویذ پر اجرت

سوال

اگر کوئی امام تعویذ گنڈوں میں یہ کہہ کر کہ تیرا کام ہو جائیگا، اس کا معاوضہ لے لے اور اس کا کام نہ ہو وہ اس کو بد نام کرے، اور عالموں کو برا کہے تو یہ لینا کیسا ہے؟

جواب

اگر امام صاحب اس فن سے واقف ہوں تو تعویذ پر اجرت لینا درست ہے، مگر یہ وعدہ ہرگز نہ کرے کہ تیرا کام ہو ہی جائے گا، جیسے بیمار سے ڈاکٹر دوا کے پیسے لیتا ہے، کہ بیمار کو شفاء ہو ہی جائے گی، شفاء اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے، اگر امام واقف نہیں تو دھوکہ دیکر پیسہ لینا نا جائز ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو