الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جگہ کرائے پر لینے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ جگہ کسی دوسرے کی ہے

سوال

زید نے بکر سے ۶×۴ فٹ کی جگہ کرائے پر لی، یہ جانتے ہوئے اار ہند کا اگر پینٹ کیا کہ بکر اس جگہ کا مالک ہے ۲۰۰ روپئے ڈپازٹ کے دیئے، اس جگہ پر لکڑی کی دوکان بنوانے کے لئے زید نے بکر کو ۳۰۰ روپیہ کی رقم دی، اس وعدہ پر کہ بکر زید کو چند ماہ میں ۳۰۰ روپیہ کی رقم واپس کر دے گا، مگر بکر نے ۳۰۰ روپیہ کی رقم بھی ڈپازٹ میں ہی جمع کر لی، دوکان مکمل ہونے پر چند ماہ بعد کلکٹر کا نوٹس لگ گیا، کہ دوکان غیر کی ہے، اور زمین بھی گورنمنٹ کی ہے، اس کو فوراً نکالا جائے، زید نے گورنمنٹ سے ریٹ ورط کر کے قانونی طور پر گورنمنٹ کا کرایہ دار…

جواب

زید نے مالک ہونے کا دعویٰ نہیں کیا، بلکہ وہ تو کرایہ دار ہے، اول اس نے یہ سمجھا تھا کہ یہ جگہ اور دوکان بکر کی ہے، بعد میں جب جج کے سامنے بکر نے اپنی ملک کا انکار کر دیا، تو اس سے ظاہر ہوا کہ دوکان بکر کی نہیں ہے، زید کرایہ دار ہے، جب تک یہ ظاہر ہوا کہ دوکان بکر کی ہے، اس کو کرایہ دیتا رہا، جب ظاہر ہوا کہ گورنمنٹ کی ہے، اس کو کرایہ دیتا رہا، اب پتہ چلا کہ چرچ کی ہے، تو پادری…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو