الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کرایہ کا معاملہ ختم ہونے پر پیشگی لی ہوئی رقم کی واپسی

سوال

میں ایک مسجد کا متولی ہوں، مسجد کا ایک کمرہ کرایہ پر دینا تھا، دو گاہک آئے جن میں سے ایک نقد رقم دے رہے تھے، اور دوسرے میرے پڑوسی تھے، ان کے پاس پوری رقم موجود نہ تھی مگر انہوں نے مجھ پر دباؤ ڈالا بالآخران سے سودا طے ہو گیا کہ کمرہ کا عطیہ ۵ ہزار روپے اور کرایہ ماہانہ چالیس روپئے ہوگا، معاملہ طے ہو چکا تھا انہوں نے ۵ ہزار روپے بطور عطیہ دینا منظور کر لیا تھا، صرف ایک ہزار روپئے نقد دیئے اور بقیہ رقم ادا کرنے کا وعدہ کیا، رقم پوری وصول نہ ہوئی تھی، اس لئے کمرہ کا قبضہ انہیں نہیں دیا، اور اسے انہوں نے منظور کر لیا،…

جواب

(۱) جبکہ کمرہ پر قبضہ نہیں دیا تو ان سے اس مدت کا کرایہ وصول کرنا شرعاً درست نہیں ہے خاص کر جبکہ انہوں نے معذرت کر کے کمرہ دوسرے کو کرایہ پر دینے کیلئے کہہ دیا تھا (۲) ایک ہزار کی رقم اگر چہ عطیہ کر دی ہے، اور اس کی رسید بھی دی گئی ہے، لیکن ظاہر ہے کہ ان کا مقصود حسبۃ للہ مسجد کی خدمت کرنا نہیں ہے، بلکہ اسی امید پر دی ہے کہ وہ کمرہ لیں گے، ان کو مسجد کا کمرہ ملے گا، اگر وہ محض…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو