زمین کرایہ پر لیکر دوسرے کو اس سے زائد کرایہ پر دینا
سوال
درگاہ مسجد کمپاؤنڈ میں سے کچھ مکانات ہیں جو وقف ہیں مکانات معمولی قسم کے ہیں، ان مکانات میں سے ایک مکان کرایہ دار نے اپنے مکان کی مرمت و درستگی پر کچھ صرفہ کیا، مثلاً چار سو یا پانچ سو روپیہ حال ہی میں اس نے اپنا یہ مکان دوسرے آدمی کو جو اس مکان کو لینے کے لئے مجبور تھا، تین ہزار پانچ سو کی رقم لے کر دے دیا، اس کو پگڑی کا معاملہ سمجھئے یہ وقف کے کارکن کی مرضی کے خلاف ہوا، اب سوال یہ ہے کہ یہ مکان جماعت اور کارکنوں کو واپس کرنا چاہئے تھا، اور جو رقم مرمت وغیرہ پر صرف ہوئی وہ ذمہ داران سے لینا چاہئے تھا۔
جواب
جتنی رقم مکان کی مرمت میں صرف کی ہے، اتنی رقم لینا درست ہے، اس سے زائد کو صدقہ کر دے۔ جماعت منتظمہ وقف کی اجازت کے بغیر ہی کرایہ پر دینا درست ہے، مگر وقف کی جائداد کو اجارہ طویلہ پر دینے کی کتب فقہ میں اجازت نہیں دی گئی، کیونکہ اس میں اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔