جس کرایہ پر دوکان لی ہے اس سے زائد کرایہ پر دوسرے کو دینا درست نہیں
سوال
زید کے پاس ایک دوکان کرایہ پرتھی، اس نے بیس سال قبل حامد کو اپنا ماتحت کرایہ دار بنایا، اور مالک دوکان کو جو کرایہ دیتا تھا، اس سے کچھ زائد حامد سے بطور کرایہ وصول کرتا تھا، کافی عرصہ کے بعد اس نے حامد سے دوکان خالی کرنے کے لئے کہا چونکہ حامد کا کاروبار اس دوکان میں چل رہا تھا، اس لئے اس نے دوکان خالی کرنے سے اپنی مجبوری ظاہر کی، چنانچہ زید نے یہ معاملہ اپنی قومی جماعت میں ڈالا، جماعت نے مندرجہ ذیل فیصلہ کیا، حامد اس دوکان پر مزید چار سال رہ سکتا ہے، مگر پہلے دو سال ماہانہ ۵۰ روپے کرایہ کے بجائے ۷۵ روپے اور مزید…
جواب
شرعی مسئلہ یہ ہے کہ جتنے کرایہ پر مالک سے دوکان لی ہو اتنے ہی کرایہ پر دوسرے شخص کو کرایہ پر دینے کا حق ہے، اس سے زائد کرایہ لینا درست نہیں، لہذا زید نے جو اپنے ماتحت کرایہ دار حامد سے زائد رقم لی ہے وہ بے جالی، اس کی واپسی ضروری ہے، نیز جس طرح مالک کو یہ حق ہے کہ زید سے دوکان خالی کرائے، اسی طرح زید کو بھی یہ حق ہے کہ حامد سے دوکان خالی کرالے، دوکان کا معاملہ ایک سال سے زیادہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔