کرائے پر لی ہوئی جائیدار کو زیادہ کرایہ پر دینا
سوال
ایک شخص نے مسجد کی جائیداد دس روپیہ ماہواری کرایہ پر لے رکھی ہے، اور اس کو اپنے طریق سے بارہ روپیہ کو کرایہ پر دے رکھی ہے، یہ منافع جائداد مسجد سے اٹھانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
اگر اس شخص نے اس جائداد میں کوئی تصرف نہیں کیا بلکہ جس مسجد سے لی تھی اسی طرح دوسرے کو دیدی تب تو یہ منافع نا جائز ہے، اس کا تصدق واجب ہے، اگر اس جائداد کی کوئی اصلاح کی یا مرمت کی ہے اور پھر دوسرے شخص کو دی ہے تو یہ منافع جائز ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔