بیع اور اجارہ
سوال
زید نے عمر سے کپڑے کا بیس میٹر کا تھان اس شرط پر لیا کہ میں اس میں جتنا فروخت کروں گا، اس کے دام میں تم کو تمہاری خرید سے ایک آنہ فی روپیہ منافع لگا کر تم کو ادا کروں گا، اور باقی جو اس تھان میں سے کپڑا بچے گا واپس کروں گا، عمر نے یہ بات منظور کر لی، اب زید نے اس کپڑے کو لے کر اس میں سے پانچ میٹر فروخت کرایا، اور وہ کپڑا عمر کا چار روپیہ فی میٹر خرید تھا، تو اس طرح زید عمر کو پانچ میٹر کے مع منافع کے ۲۱٫۲۵ روپیہ دیئے اور باقی جو کپڑا بچا تھا وہ دے دیا، اب زید عمر کی یہ بیع صحیح ہوئی یا نہیں، اور زید نے وہ کپڑا بکر…
جواب
یہ معاملہ بیع کا نہیں، عمر بائع نہیں، زید مشتری نہیں، بلکہ یہ اجارہ ہے گویا عمر نے زید کو کہا کہ میرا یہ کپڑا فروخت کر دو، زید کپڑا لے کر جاتا ہے، اور گاہک تلاش کر کے کپڑا فروخت کرتا، اس کام کی اجرت یہ قرار پائی کہ عمر نے جس قیمت پر خریدا تھا، اس پر ایک آنہ فی روپیہ زائد تو زید لاکر عمر دے گا، اور اس کے علاوہ جتنی بھی زیادہ قیمت میں فروخت کرے گا وہ زیادتی بطور اجرت زید کی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔