رہن اور اجارہ
سوال
زید نے بکر کے پاس کچھ زمین رہن رکھی، اس شرط پر کہ زمین کالگان بکر دے گا، اور اس رہن کے علاوہ کچھ پیسے اور مزید بکر زید کو دیتا ہے، اور اس زمین کا نصف غلہ بکر لیتا ہے، اور نصف غلہ زید لیتا ہے، اب زید بکر سے زمین واپس لینا چاہے تو وہ کس شرط پر اور کس طرح لے سکتا ہے؟ مسئلہ مذکورہ کے بارے میں جس طرح آپ حضرات کو زحمت دی گئی تھی، اسی طرح ایک دوسرے مفتی صاحب سے بھی جواب منگایا گیا تھا، اب چونکہ دونوں فتوؤں میں بظاہر تعارض ہے، جو ہمارے لئے موجب تشویش ہے، اس لئے براہ کرام تشویش کا ازالہ فرماویں۔
جواب
صورت مسئولہ میں ایسا معاملہ کرنا شرعاً حرام ہے، مسلمانوں کو سود کا لین دین کرنا، اور سودی معاملات سے مطلقاً احتراز کرنا لازم ہے، جو صورت سوال میں درج ہے یہ بھی سودی معاملہ ہے، مرتہن جو نفع زمین مرہون سے اٹھا رہے ہیں، اور سب کو اپنے تصرف میں لا رہے ہیں، وہ بھی سود ہے، کیونکہ شریعت کا قاعدہ مقرر ہے کہ وہ قرض جس سے نفع حاصل کیا جائے ربا ہے ” لقوله عليه السلام كل قرض جر نفعاً فهو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔