کرایہ دار کا پگڑی دیکر شرائط طے کرنا
سوال
دوکان کرایہ پر دینے سے پہلے مالک دوکان کو کچھ روپے الگ سے اس وجہ سے دیئے جائیں کہ اس دوکان کا محل وقوع اچھا ہے، جس کو پگڑی کہا جاتا ہے، اسکے بعد صاحب دوکان کو یہ اختیار نہ رہے گا کہ جب چاہے وہ اپنی دوکان واپس لے لے، بلکہ کرایہ لینے کا اختیار ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ پھر دوسرے کو بھی اس طریقہ سے الگ رقم لیکر کرایہ پر دے دے، اور اگر کرایہ پر لینے والے کا جی چاہے، تو صاحب دوکان کو اس کی دوکان واپس کر دے، واپس کرنے سے پہلے تک صاحب دوکان کو کرایہ رقم ملتا رہے گا، چاہے وہ دوکان دوسرے یا تیسرے کے پاس اسلوب مذکورہ سے منتقل…
جواب
یہ طریقہ شرعاً غلط ہے، کہ مالک بے اختیار ہو جائے، اور کرایہ دار کے تصرفات ہی ہمیشہ نافذ ہوتے رہیں، پگڑی دینا اور یہ شرط کر لینا کہ کرایہ دار خالی نہیں کرائے گا، بلکہ جس کو دل چاہے گا اس کو کرایہ پر دیدے گا، اور جو کرایہ چاہے گا وہ اس سے وصول کرے گا، مقتضائے عقد کے خلاف ہے جو کہ مفسد ملک ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔