الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مزدوری کے لئے شرط

سوال

کچھ تاجر لوگ غرباء کو مزدوری پر اس شرط پر پیسے دیتے ہیں کہ موسم میں میرے یہاں دس عدد مزدوری پر آنا ہوگا، حالانکہ موسم کی آمدنی، مزدوری بیس عد دور و پئے یومیہ ہے، تو یہ پیسہ اس طرح دینا لینا جائز ہے یا نہیں؟ اسی طرح بعض لوگ غلہ وصول کرنے کی شرط پر پیسے دیتے ہیں کہ مثلاً من کے پانچ روپے کے حساب سے پانچ من غلہ موسم میں دینا ہوگا، حالانکہ غلہ کے دام اس وقت ۲۰، ۲۵ روپیہ من تک ہوتا ہے، اس قسم کے لین دین جائز ہیں یا نہیں؟

جواب

مزدوری کا یہ طریقہ غلط ہے، غلہ لینے کا یہ طریقہ بیع سلم ہے شرائط سلم کے صاف ہو جانے کے بعد اگر چہ بیع درست ہو جائے گی، مگر غریب مستحق رحم ہے، اتنا تفاوت نرخ میں کرنا بڑی بے مروتی ہے، ڈرنا چاہئے کہ اگر اپنے اوپر خدا نخواستہ ایسا وقت آجائے تو کیا گزرے گا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو