الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حرام آمدنی سے تنخواہ لینا

سوال

میں اپنے بھائی صاحب کی دوکان میں ملازم کی حیثیت سے دوسو روپیہ ماہانہ تنخواہ پر کام کر رہا ہوں، ابتدائی ہی سے بھائی صاحب کے مکان میں رہائش و خورد و نوش ہے، اور وہی کفیل رہے ہیں، بھائی صاحب کی آمدنی تمام تر حرام ہے،اور دوکان سامانِ تقاریب کی ہے، جو کہ کرایہ پر دیئے جاتے ہیں، اور یہ سامان بھی اسی حرام مال سے خریدا گیا ہے، یہ عاجز اپنے لئے حلال کی فکر میں ہے، اس لئے باوجود کوشش اور پیشکش کے بجائے شریک بننے کے ملازم بن کر رہنا گوارا کر لیا، اگر میں ملازمت چھوڑ دوں تو فی زمانہ دوسری ملازمت ملنا بہت دشوار ہے، بچپن سے…

جواب

آپ کی تحریر میں سامان تقاریب مجمل و مبہم لفظ ہے، میں اسکا مطلب سمجھتا ہوں شامیانه، میز، کرسی، گیس، فرش و غیره ان اشیاء کو کرایہ پر دینا اور کرایہ وصول کرنا حرام نہیں ہے، اگر چہ کرایہ پر لینے والے اپنی محفل میں کچھ غلط قسم کے کام بھی کرتے ہوں مگر اس کی وجہ سے وہ کرایہ کی آمدنی حرام نہیں، ایسی آمدنی سے کھانا اور تنخواہ لینے میں مضائقہ نہیں ہے، دونوں طرح درست ہے، اگر آمدنی حرام…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو