مزدور کے ذریعہ جنگلات کی لکڑیاں کٹوا کر لانا
سوال
سرکاری جنگلات سے مزدور کی مزدوری دیکر لکڑی کٹوا کر لایا ہوں اور یہ لکڑی کسی کو فروخت کر رہا ہوں، یہ لکڑی کا کاروبار کس حد تک شرعی لحاظ سے درست ہے، یا نہیں؟ اور اس کاروبار میں میں نے کسی قسم کی رشوت نہ لی ہے، نہ دی ہے، یہ کاروبار کس حد تک صحیح ہے، اسلامی اصول کے تحت؟
جواب
اگر آپ مزدور سے اس طرح معاملہ کریں کہ ایک دن میں مثلاً آٹھ گھنٹے تم سے یہ کام لینا ہے، اور آٹھ گھنٹے کام کی مزدوری مثلاً چار روپے دوں گا، اور مزدور اس کو منظور کرلے تو شرعاً یہ معاملہ درست ہے اور وہ لکڑی آپ کی ملک ہوگی، آپ جس طرح چاہیں فروخت کریں، اگر وہاں سے لکڑی کاٹنا خلاف قانون اور جرم ہو تو اس سے پوری احتیاط کی جاوے، مال وعزت کا خطرہ مول لینا دانشمندی کے بھی خلاف ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔