سال بھر کی تنخواہ یکمشت لینا
سوال
ایک شخص جو جامع مسجد کا امام ہے، ماہانہ تنخواہ نہیں لیتا، روپے سال میں ایک مرتبہ رمضان المبارک شب قدر میں ایک مشت دو سو پچیس سالانہ اس خدمت کا عوض نذرانہ کے نام پر وصول کرتا ہے، اگر لوگ اس کی منشاء سے کچھ کم دینا چاہیں تو نہیں لیتا، اب جب اضافہ کر کے دیتے ہیں، اس وقت ان کو قبول کر لیتا ہے، لیکن مشہور کرتا ہے کہ وہ بلا معاوضہ خدمت انجام دیتا ہے، اس شخص کا یہ عمل شریعت کی رو سے کیسا ہے؟ ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟
جواب
جس طرح ماہانہ تنخواہ کا معاملہ درست ہے، اس طرح سال بھر میں یک مشت مقدار معین پر بھی معاملہ درست ہے، خواہ اسکا نام نذرانہ ہی رکھا جائے، اس سے امامت میں نقصان نہیں آتا لیکن یہ سمجھنا اور مشہور کرنا غلط ہے، کہ یہ خدمت امامت بلا معاوضہ ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔