ٹھیکیداری کا پیشہ
سوال
زید ٹھیکیدار ہے اور ضمنیہ ٹھیکہ میں کام کرتا ہے، اور منجانب حکومت ٹھیکیدار کی کوئی تنخواہ متعین نہیں ہے، اس لئے وہ کام انجام دیکر اس سے کچھ روپیہ بچا کر اپنا پیٹ پالتا ہے، تو کیا زید کا اس سے روپیہ بچا کر لینا جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر یہ ٹھیکہ نہیں لے گا، تو حکومت دوسرے کو دیدے گی، اور دوسرا ٹھیکیدار زید کی طرح کام بھی نہیں کرتا، بلکہ اس سے زیادہ مال ہڑپ کر لیتا ہے، تو کیا زید ٹھیکیداری چھوڑ دے، یا اگر زید ایسا کرے کہ جو مال بچاتا ہے، وہ غریب مسلمانوں میں تقسیم کر دے تا کہ مسلمان کی مالی حالت سدھر جائے تو ایسا…
جواب
حکومت نے جس کام کا ٹھیکہ دیا اور زید نے اس کو منظور کر لیا کہ اتنے روپئے لونگا، اور کر دوں گا، تو یہ درست ہے، پھر روپیہ اس میں برابر خرچ ہو یا کم زیادہ خرچ ہو سب درست ہے، جیسے ایک شخص کتابوں کی جلد بندی کرتا ہے، اور روپیہ طے کر لیتا ہے، اس میں سامان اور زیادہ روپیہ کا لگے یا کم کا سب طرح درست ہے، کوئی مکان تعمیر کرانا ہو یا سڑک بنوانا ہو سب کا یہی حال ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔