الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مالی جرمانہ اور اس کا مصرف

سوال

گاؤں میں جو پنچایت کے ذریعہ زانی، مجرم، ظالم، موذی پر جرمانہ کیا جاتا ہے، یہ جرمانہ کرنا اور تاوان لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو یہ رقمیں کہاں اور کن کاموں میں صرف کرنا چاہئے؟ یا انہی لوگوں کو واپس کر دینا چاہئے، اس صورت میں پنچایت کی کوئی وقعت نہیں رہے گی، اور نہ انہیں کوئی خوف دامن گیر ہوگا، بتلائیے ان لوگوں کا کیا کیا جائے، جو یہ راہ راست پر آجائیں، پھر کسی برائی پر آمادہ نہ ہوں۔

جواب

مالی جرمانہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک جائز نہیں منسوخ ہے، اگر لیا ہو تو اسکی واپسی لازم ہے، انسداد جرائم کے لئے ارشاد تلقین، تذکیر، تزکیۂ باطن کی ضرورت ہے، تا کہ دل میں خوف وخشیت پیدا ہو، جنت ودوزخ کا استحضار، قبر قیامت، حشر، حساب، کتاب، خدائے قہار کی عظمت اور اس کے انعامات کا مراقبہ لازم ہے، تاکہ اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ کی رغبت ہو ور نہ محض سختی سے اصلاح نہیں…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو