قاضی وغیرہ کا مالی جرمانہ لینا
سوال
کیا تعزیر باً خذ المال جائز ہے، اور ” ويعزر كل مرتكب منکر الخ“ کوئی تعزیر مراد ہے، مالی یا بدنی، کیا علاقہ کے قاضی کو تعزیر کے طریقہ پر کچھ مال لے لینے کا اختیار ہے؟ ہمارے یہاں پر معمول ہے کہ اگر کسی سے کوئی حرکت خلاف ہو جائے، تو مولوی پیر یا سید اس کو تعزیر لگاتے ہیں، مثلاً ایک صد کی روٹی یا روٹی مقرر کر کے اس کے حساب سے نقد دام وصول کر کے یا تو بذات خود خرچ کر دیتے ہیں، یا کسی مکتب مدرسہ میں داخل کر دیتے ہیں، اور سوائے اس کے اور کوئی طریقہ اس لئے چارہ کار نہیں ہو سکتا، اگر تعزیر مالی نہ کی جائے تو بہت کم عبرت…
جواب
تعزیر کے متعلق در مختار میں ہے” لا باخذ مال في المذهب بحر“، یعنی تعزیر ضرب، حبس، فرک اذن وغیرہ سے ہے، تعزیر باً خذ المال جائز نہیں آگے فرماتے ہیں،” وفيه عن البزازية وقيل يجوز معناه ان يمسكه مدة لينزجر ثم يعيده له فان آئيس عن توبته صرفه الى ما يرى وفي المجتبى انه كان في ابتداء الاسلام ثم نسخ، (ج ۲ ص ۴۱۰)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔