الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

گورکنی میں شرکت نہ کرنے والے پر مالی جرمانہ

سوال

جب کوئی فوت ہو جاتا ہے، سب مل کر بلا اجرت قبر کھودتے ہیں، یہاں کے ذی اثر حضرات تنبیها وسیاسه وانتظاماً تجویز کیا کہ جو شخص گورکنی میں شرکت نہ کرے اس سے ۱۴ روپیه جرمانہ وصول کیا جائے، اور اس سے قطع تعلق ترک موالات کیا جائے، چنانچہ لوگ اس کی وجہ سے جنازہ وغیرہ میں شرکت کرنے لگے وعلی ہذا نماز وغیرہ میں۔ اب دریافت طلب یہ ہے کہ یہ تجویز صرف مصلحت دینی کے اعتبار سے انتظاماً مباح ہے، یا مکروہ یا حرام؟ اگر مکروہ ہے تو اس مصلحت کی وجہ سے اس کا تحمل درست ہے یا نہیں؟

جواب

قبر اجرت پر کھدوانا بھی جائز ہے مگر آپس میں بلا اجرت کھودنا ہمدردی ومروت کی بات ہے، جنازہ کی نماز فرض کفایہ ہے کہ اس میں سستی کرنا غفلت اور ناعاقبت اندیشی ہے، نماز پنجوقتہ فرض عین ہے، اس کا چھوڑ نا گناہ کبیرہ ہے، اگر استخفاف کی وجہ سے چھوڑے تو کفر تک نوبت پہنچ جاتی ہے جو شخص نماز چھوڑے اس سے تعلقات چھوڑ دینے چاہئیں، جب تک وہ توبہ نہ کرے اور نماز کا پابند نہ ہو مال کا جرمانہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو