برادری والوں کا مالی جرمانہ عائد کرنا
سوال
یہاں پر بعض برادریوں میں ایسا ہے کہ اگر کسی شخص سے گناہ سرزد ہو جاتا ہے، تو اس سے کچھ روپئے بطور کفارہ کے لیتے ہیں، اور اس کے اوپر یہ بھی لازم کر دیتے ہیں کہ مثلاً فلاں جامع مسجد میں پانی بھرو کچھ دنوں تک، مجھے روپیہ لینے پر اشکال تھا، اور اسے تعزیر بالمال سمجھتا تھا، اور تعزیر بالمال حنیفہ کے نزدیک حرام ہے، آج ہی فتاوی مولانا عبدالحی میں دیکھ رہا تھا، تو مولانا جلد ثالث، ص ۴۸ میں لکھتے ہیں ”تنبیہ کے لئے یہ جرمانہ لینا جائز ہے
جواب
تعزیر زجر وتوبیخ ہی کے لئے ہوتی ہے، خواہ چپت مار کر ہو یا کان پکڑ واکر، اسی مقصد کے لئے روپیہ لیا جاتا ہے، اس کی اجازت نہیں، جو سزا شریعت کی حد کی طرح متعین نہ ہو وہی تعزیر ہے اور اس سے مقصود اصلاح ہے، اسی ذیل میں فقہاء نے مال لینے کو منع فرمایا ہے، جیسا کہ بحر شامی وغیرہ میں ہے، مجموعہ فتاوی مولانا عبدالحی سے جو کچھ آپ نے نقل کیا ہے، وہ ان سب کتب کے خلاف ہے، اور اس پر مولانا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔