الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

گناہ پر مالی جرمانہ

سوال

اگر کسی مسلمان سے گناہِ کبیرہ یا صغیرہ صادر ہو جائے، تو توبہ شرعی کے بجائے، تاوان یا جرمانہ اس سے لینا جائز ہے یا نہیں؟ جرمانہ شریعت کے اندر ہے، یا نہیں؟ لیکن صحیح احادیث نبویہ وقدسیه وکتب فتاوی سے معلوم ہوا کہ دین اسلام کے اندر جرمانہ نہیں بلکہ گناہ کی جزا صرف توبہ اور قصاص کے بدلہ قصاص ہے، اور اگر کسی کو توبہ کے بجائے جرمانہ عائد کیا جائے، مثلاً کسی نے زنا کیا یا نماز وغیرہ کو ترک کر دیا تو ایسے فاسق آدمی پر جرمانہ عائد کیا جائے، بدون توبہ شرعی کے تو اس جرمانہ کے روپیہ کو کہاں خرچ کیا جائے گا؟

جواب

تعزیر اپنے ماتحت پر گناہوں کی وجہ سے حسب حال کی جاسکتی ہے، مالی جرمانہ درست نہیں، ابتداء میں مالی جرمانہ تھا، پھر منسوخ ہو گیا فی المجتبى كانت في ابتداء الاسلام ثم نسخ الخ درمختار، والحاصل ان المذهب عدم التعزير بأخذ المال الخ شامي امام طحاوی نے حدیث لا يحل مال امرء مسلم الابطيب نفس منہ کو ناسخ بتایا ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو