انسداد جرائم کے لئے مالی جرمانہ
سوال
جب کہ حالات بگڑ چکے ہیں جرائم مختلف ہیں اس کے انسداد کے لئے جسمانی سزا (زدوکوب) کے بجائے مالی سزا (جرمانہ) کر سکتے ہیں یا نہیں، چونکہ مار پیٹ میں شدید اختلاف خطرات کا سامنا ہے،اس لئے مالی سزا (جرمانہ) کر کے معاشرہ کو سدھارنے کی کوشش کی جاتی ہے، وہ بھی علماء متاخرین میں مولانا عبدالحی صاحب کا فتوی موجود ہے، جواز کا اور امام ابو یوسف کا قول ہے، مالی سزا کا پھر جرمانہ سے متعلق چند علماء بر بناء قول جمہور ائمہ عدم جواز کے قائل ہیں، علماء حق کے نزدیک جائز ہے یا نا جائز اور کیا صحیح ہے؟
جواب
علامہ ابن نجیم نے تعزیر کی تعریف وتنویع کے بعد لکھا ہے: منقولہ عبارات سے معلوم ہوا کہ تعزیر بالمال (مالی جرمانہ) منسوخ ہے، اور مذہب معتمد قابل عمل اس کا عدم جواز ہے، اور امام ابو یوسف کی طرف اس کی نسبت ضعیف ہے، منسوخ پر نہ عمل کیا جا سکتا ہے، نہ فتوی دیا جا سکتا ہے، جیسا کہ شرح عقو درسم المفتی میں ہے منکر اور فاحشہ سے روکنے کے لئے ترک تعلق کی سزادی جاسکتی ہے (اگر مفید ہو)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔