الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مالی جرمانه

سوال

قومی پنچائت میں یہ قانون سر پیچ اور دیگر اشخاص نے مقرر کیا کہ جس شخص سے کوئی خطا سرزد ہو تو اس کی سزا روپیہ کا جرمانہ ہوگی، لہذا یہ جرمانہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

مال کا جرمانہ ناجائز ہے، احکام شرعیہ کی پابندی کے لئے کوئی دوسری سزا ترک تعلقات وغیرہ کی دی جائے، وفرك الاذن وبالكلام العنيف وبنظر القاضي له بوجه عبوس وشتم غير القذف لا بأخذ مال في المذهب، تنوير والحاصل ان المذهب عدم التعزير باخذ المال، شامی، ۳۷۵۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو