الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مالی جرمانہ لینا اور اس کو مسجد میں صرف کرنا

سوال

ایک برادری میں چند قوانین مقرر ہیں، اور وہ ان کی خلاف ورزی سے سیاسۃً بطور جرمانہ کچھ رقم وصول کرتے ہیں، تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ رقم مذکورہ کو مصارف مسجد میں صرف کرنا جائز ہے یا نہیں؟ جواب سوال تحریر فرما کر عنداللہ ماجور ہوں؟

جواب

مذہب معتمد علیہ یہ ہے کہ ایسا جرمانہ نا جائز ہے، اگر کچھ رقم بطور جرمانہ وصول کر لی ہے، تو اس کی واپسی ضروری ہے، مسجد وغیرہ میں صرف کرنا درست نہیں، ”قال في الفتح وعن ابی يوسف رحمة الله تعالى يجوز التعزير للسطان بأخذ المال وعندهما وباقى الائمة لا يجوز ومثله في المعراج وظاهره ان ذلك رواية ضعيفة عن ابي يوسف قال في الشرنبلا ليه: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظملة على أخذ المال…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو