الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مرض الموت میں ہبہ

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے مرض الوفات میں اپنی مملوکہ کچھ حصے ایک لمٹیڈ کمپنی کے اپنے بعض ورثہ کو ہبہ کر دیئے اسی مرض میں چند ایام کے بعد زید کی وفات ہوگئی، اب شرعاً یہ دریافت کرتا ہوں کہ زید کا مرض الوفات میں بعض ورثہ کو ہبہ کرنا درست ہے یا نہیں، بینوا توجروا۔

جواب

مرض الموت میں ہبہ بمنزلہ وصیت کے ہوتا ہے، پس اگر کوئی شخص مرض الموت میں ہبہ کردے اور موہوب لہ کا قبضہ کرادے، اگر مشاع قابل تقسیم ہو تو تقسیم کر کے قبضہ کرادے، اس کے بعد انتقال ہو جائے، تو ایک ثلث میں اس کی تنفیذ ہوگی، اگر تقسیم اور قبضہ سے پہلے انتقال ہو جائے تو ہبہ باطل ہوگا، اگر موہوب لہ وارث ہو تب بھی ہبہ ناجائز ہوگا، الا یہ کہ دیگر ورثاء اس پر راضی ہوں، ”الهبة والصدقة من…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو