بیٹے کو زمین ہبہ کر کے واپس لینا
سوال
عمر نے اپنی ملک اراضی میں سے اپنے بیٹے زید کو چند گواہوں کی موجودگی میں ایک قطعہ زمین اس معاہدہ کے ساتھ ہبہ کیا کہ میری حیات تک اس کی پیداوار چوتھائی مجھے دیتے رہنا، زید نے اس کو منظور کر لیا، اس قطعہ کے کچھ حصہ میں اس نے اپنے صرفہ سے کسی جنس کی تخم ریزی بھی کرادی اور کچھ میں آئندہ تخم ریزی کے خیال سے ہل بھی چلوا دیا، مہینہ بھر ہی کے اندر باپ نے اس قطعہ کو بٹائی پر ایک اجنبی شخص کو دیدیا، اور اب اسے کسی خریدار کو فروخت کر دینا بھی چاہتا ہے، زید جو کہ اسکا بیٹا ہے کہتا ہے کہ مذکورہ بالا صورت میں از روئے شرع میرے…
جواب
والد نے جب قطعہ زمین اپنے بیٹے کو ہبہ کر دیا، اور اپنی ملک و قبضہ سے خارج کر کے بیٹے کی ملک و قبضہ میں دیدیا، تو یہ ہبہ تام و نافذ ہو گیا ہے جو شرط لگائی ہے، وہ بھی صحیح نہیں ہے، اس کی پابندی بیٹے پر لازم نہیں، اس شرط کی وجہ سے ہبہ فاسد نہیں ہوا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔