الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ہبہ بلا قبضہ اور وقف علی الاولاد

سوال

زید نے اپنی جائیداد میں سے ایک اپنا رہائشی مکان جس میں خود اور اس کے متعلقین رہتے ہیں یا رہتے تھے، اپنے مرنے سے چار سال پیشتر اپنی بہو یعنی چھوٹے بیٹے کی بیوی کے نام ہبہ کیا، اور ہبہ نامہ لکھدیا جس میں یہ بیان ہے کہ میں نے ہبہ کر کے موہوب لہا بہو کے قبضہ میں دیدیا، حالانکہ وہ معہ اپنے مذکور متعلقین کے اس میں رہتا ہے، اور اس میں رہنے کے لئے کرایہ نامہ کی تحریر بعوض کرایہ لکھ دیا ہے، لیکن کوئی ثبوت ایسا نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ واہب واقف ہے، کبھی بھی چار سال میں موہوب لہا سے زر رسید حاصل کی ہو، ٹیکس واٹر ٹیکس…

جواب

اگر واہب نے ہبہ کے بعد اس مکان سے اپنا قبضہ نہیں اٹھایا تھا اور اپنا سامان وہاں سے منتقل نہیں کیا، بلکہ بعد از ہبہ نامہ بغیر مکان خالی کئے فوراً کرایہ نامہ تحریر کر دیا تو شرعاً یہ ہبہ نافذ نہیں ہوا، اور موہوب لہا (یعنی بہو)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو