مرض الموت میں وارث کو ہبہ کا حکم
سوال
مفید الوارثین نمبر ۵۰/ (۱۹) میں ہے اگر مرض الموت میں کسی ایسے شخص کو جو مریض کا وارث نہیں بطور تحفہ و ہدیہ کچھ دیدیا تو بالفعل دلوادیا جائیگا لیکن اگر مریض اس مرض میں مر گیا اور معلوم ہوا کہ وہ مرض الموت تھا تو اس کا حکم مثل وصیت کے ہے، انتہیٰ، اس میں غیر وارث کو دینے کی شرط کیوں لگائی گئی؟ اگر وارث کو مرض الموت میں دے تو اس کو بھی فی الحال دلوادینا چاہئے، کیونکہ اس مرض کا مرض الموت ہونا یقینی نہیں، پس اگر اسی مرض میں مر جائے، تو وہ چیز اس وارث سے واپس لے لی جائے، وارث اور غیر وارث میں کوئی فرق معلوم نہیں ہوتا۔
جواب
(وارث میں واپس لینے سے ایک دوسری شئی بھی مانع ہے، وہ اس کا ذی رحم محرم ہونا یا تعلق زوجیت ہونا ہے) اغلب واقرب یہ ہے کہ اس تحفہ کو چونکہ مرض الموت میں وصیت کا حکم دیا جاتا ہے اور وارث کے حق میں وصیت نافذ نہیں ہوتی، ”لا وصية لوارث“ ہے، اس لئے اس صورت کو غیر وارث کے ساتھ مقید کیا، تا کہ آئندہ چل کر اگر اس مرض کا مرض الموت ہونا ثابت ہو جائے تو اس سب کو بحکم وصیت ثلث ترکہ سے نافذ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔