غیر مملوک مکان کو ہبہ کرنا
سوال
سائل کے والد دو بھائی تھے، دونوں کا انتقال ہو گیا ہے، ایک کی اولاد لڑکا ہے، دوسرے کی اولاد بھی لڑکا ہے، سائل منصور احمد اور اپنے بھائی فہیم الدین کے پاس رقم بھیجتا رہا، بمبئی سے مکان تعمیر کرانے کیلئے، تو فہیم الدین جو منصور احمد کا تایا زاد بھائی تھا، اس نے مکان تعمیر کرایا، مکان کی جائیداد شرکت کی تھی، اور ایک دوکان اس میں منصور احمد نے اپنے روپیہ سے خریدی تھی، فہیم الدین کا انتقال ہو گیا ہے، اور مکان اپنی لڑکی کے نام کر دیا ہے، اب فہیم الدین کی بیوہ نے اس مکان اور دوکان پر قبضہ کر لیا ہے، شرع کا کیا حکم ہے؟
جواب
فہیم الدین کی بیوہ کو شوہر کے ترکہ سے میراث میں آٹھواں حصہ پہنچتا ہے، اس سے زیادہ کی وہ حقدار نہیں ہے، جو دوکان منصور احمد نے اپنے ذاتی روپیہ سے خود خریدی ہے، وہ منصور احمد کی ہے، جو مکان منصور احمد کے بھیجے ہوئے روپیہ سے تعمیر ہوا وہ منصور احمد کا ہے، فہیم الدین کو لڑکی کے نام کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، یہ غلط ہوا، لڑکی اس پر قبضہ نہ کرے بلکہ لڑکی اور وہ دونوں کو لازم ہے کہ وہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔