الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

متبنی کو ہبہ یا وراثت

سوال

(نوٹ) پہلے ارسال کردہ سوال اور جناب کا جواب درج ذیل ہے : زید کے کوئی اولاد نہیں، وہ اپنے ایک حقیقی بھائی کے لڑکے عمر کو متبنیٰ قرار دیتا ہے، اس کی خواہش ہوئی ہے کہ عمر کو زمین جائیداد کا وارث قرار دیدے، زید کے دوسرے بھتیجے بھی موجود ہیں، زید اس خیال سے کہ اس کی موت کے بعد شرعی حقوق پر دوسرے بھتیجے بھی دعویدار نہ ہو جائیں، جائیداد عمر کے نام ہبہ کرا دیتا ہے، اس کے نتیجہ کے طور پر زید کے انتقال پر اس کی ہبہ شدہ جائیداد سے اس کے دوسرے بھتیجوں کو کوئی حصہ نہیں مل سکا، بعض کا خیال ہے کہ اسلامی قانون کے تحت زید کو ایسا…

جواب

عمر پر اس سلسلہ میں کوئی گرفت نہیں، جبکہ اس نے کوئی ناجائز کوشش نہیں کی، اس کو اس ہبہ شدہ جائیداد سے استفادہ و انتفاع درست ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو