الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اپنی جائیداد نواسے کے نام کرنا

سوال

زید کے نانا بکر نے زید کو بچپن میں گود لے لیا تھا، اور اپنی اولاد کی طرح پرورش کی، اس لئے بکر کی یہ خواہش تھی کہ وہ اپنے تمام جائیداد کا مالک زید کو ہی بنائیں،اس طرح وہ اپنی زندگی ہی میں اپنی جائیداد زید کے نام ہبہ کر چکے تھے لیکن بکر اپنی بعض غفلت کی بناء پر اس کو قانونی کاروائی میں نہ لا سکے اور انتقال فرما گئے، اس لئے قانونی طور پر ان کی صحرائی جائیداد ان کی بیوہ کے نام منتقل ہو گئی، اب بیوہ نے اس صحرائی جائیداد کا نصف زید کے نام بیع بذریعہ رجسٹری کر دیا ہے، باقی نصف جائیداد کا بھی وہ زید کو ہی مالک بنانا چاہتی…

جواب

اگر قانونی حیثیت سے وہ زمین ملکیت سرکار تھی اور آپ کے شوہر کو صرف حق کاشت حاصل تھا، اور انتقال شوہر کے بعد وہ بیوی ہی کو قانونا ملنی چاہئے اور اسکا نصف حصہ آپ نے زید کے نام بیع رجسٹری کر دیا، تو وہ بیع صحیح ہوگی، بقیہ کو بھی آپ نواسہ (زید)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو