الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مرض الموت میں ہبہ وارث کیلئے

سوال

مسمی کالے خاں دو بیٹے عبداللہ خاں و حبیب خاں چھوڑ کر فوت ہوا، ان میں سے عبداللہ خاں کے دو بیٹے ایک بیٹی تھی، عبداللہ خاں مرض الموت میں مبتلا ہوا، تو اس کے دونوں لڑکوں نے کل جائیداد باپ کی اپنے نام رجسٹری کرالی اور باپ کی اس پر تصدیق کرالی گویا باپ نے خود ہی دونوں بیٹوں کے نام کل جائیداد کر دی مرض الموت میں، اور لڑکی کو محروم کر دیا، یعنی لڑکی کے نام کچھ نہیں کیا، اندریں صورت دریافت طلب امر یہ ہے کہ لڑکی کو از روئے شرع کچھ حصہ ملے گا یا نہیں؟ جبکہ باپ کے ہوش و حواس ہی بوقت تصدیق نامہ نہ تھے؟

جواب

عبداللہ خاں کے جو دونوں بیٹوں نے رجسٹری کرائی ہے، بظاہر یہ ہبہ نامہ ہے،لہذا ہبہ نامہ کا ہی حکم جواب میں تحریر ہے، مرض الموت میں ہبہ وصیت کے حکم میں ہوتا ہے، اگر ہوش و حواس بجا ہوں، اور مرض الموت میں ہبہ کر کے موہوب لہ کا قبضہ کرادے تو ایک ثلث میں جاری ہوگا اگر قبضہ کی نوبت نہیں آئی کہ واہب کا انتقال ہو گیا تو ہبہ بے کار اور کالعدم ہو گیا ہے اور اگر ہوش و حواس درست نہیں تھے،تو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو