الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وارثوں کو ہبہ کرنا

سوال

زید نے اپنی زندگی میں جائیداد، دو لڑکی اور تین لڑکوں کے درمیان اس طور پر تقسیم کی کہ سب سے عمدہ زمین دولڑکیوں کو دو ڈھائی بیگہ دی اور یہ کہا کہ تم کو کم تو ضرور دی مگر سب سے عمدہ زمین دی، اور تین لڑکوں میں بقیہ زمین تقسیم کر دی، تینوں کو علیحدہ علیحدہ گیارہ گیارہ بیگہ زمین دی، زید نے لڑکوں سے کہہ دیا کہ اس سے زائد نہیں ملے گا، بقیہ زمین اپنے خرچ کے لئے رکھ لی اخیر میں لڑکوں کے حوالہ کی باضابطہ قانونی رجسٹری نہیں کرائی، زبانی ہبہ انہوں نے کر دیا، اس ہبہ کو شریعت مانتی ہے کہ نہیں؟

جواب

والد اپنی صحت تندرستی کی حالت میں اپنی اولاد لڑکے اور لڑکی کو جو چیز دیدے، یعنی ہبہ کردے اور اپنا قبضہ اُٹھا کر اس کا قبضہ کرا دے وہ چیز اس کی ملک ہو جاتی ہے، چاہے زبانی ہبہ کیا ہو یا تحریری بھی لکھ دی ہو، وہ چیز ترکہ نہیں بنے گی، اور دوسروں کو تقسیم کے مطالبہ کا حق نہیں ہوگا، کسی کو کم دے یا زیادہ دے، البتہ کسی وارث کو محروم کرنے یا نقصان پہنچانے کی اگر والد نے نیت کی ہو تو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو