الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ہبہ بالشرط

سوال

زید اور عمر آپس میں دوست ہیں دونوں میں تعلقات کثیرہ ہیں، زید نے عمر سے کہا کہ فلاں شئی مجھے ہبہ کردے، عمر نے اس شرط پر کیا کہ تم یہاں سے گھر نہیں لے جا سکتے، ہم دونوں استعمال کریں گے لیکن ملک تمہاری ہے اور قبضہ کرا دیا، اب کئی سال کے بعد زید اس شئی کو گھر یا اور کہیں لے جانا چاہتا ہے، اور عمر اس کے انتفاع سے بالکل محروم رہ جاوے گا نیز زید یہ بھی کہتا ہے کہ میں نے یہ شرط اس وقت قبول نہیں کی تھی، بلکہ میں نے تو اتنی مقدار پیسے دیدیئے تھے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہبہ نہیں ہوا تھا، بلکہ بیع ہوئی تھی، اور عمر کہتا ہے کہ…

جواب

(۱) ہبہ صحیح ہے شرط باطل ہے، واپس لینا مکروہ تحریمی ہے، اگر پیسے دینے کا ثبوت ہو تو واپسی کا مطالبہ بالکل ناجائز ہے، اور خلاف شرع ہے، ” قال اصحابنا جميعاً اذاوهب هبةً وشرط فيها شرطاً فاسداً فالهبة جائزةً والشرط باطل اھ فتاویٰ عالمگیری، ص ۳۹۶/ ج ۴/ ويصح الرجوع فيها اى في الهبة كلاً او بعضاً ولكن يكره تحريماً ويمنع منه حروف دمع خزقة مجمع الانهر، ص ۳۵۹/ ج ۲ /۔“

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو