الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اولاد کو ہبہ میں کمی بیشی

سوال

احقر کے کل دس بچے ہیں، سات لڑکے اور تین لڑکیاں، جس میں دولڑ کے ابھی نابالغ ہیں اور تعلیم حاصل کر رہے ہیں، میری زوجہ بھی حیات ہیں، میرے چارلڑ کے مجھ سے قطع تعلق کر کے اپنا الگ کاروبار کرتے ہیں، جس وقت یہ لڑکے مجھ سے الگ ہوئے ہیں میں نے ان کو گذر اوقات اور کاروبار کے لئے ایک معقول رقم بھی دیدی تھی لیکن ان میں سے بعض نے اپنی غلط کاری اور بے راہ روی کی وجہ سے وہ ساری رقم لہو و لعب میں صرف کر ڈالی، میں نے ان کو بارہا سمجھانے کی کوشش کی مگر یہ میری ایک بات بھی ماننے کے لئے تیار نہیں، غرضیکہ یہ چاروں لڑکے بالکل نالائق…

جواب

حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث شریف میں اولاد میں مساوات کی ترغیب دی ہے، کسی کو کم اور کسی کو زیادہ دینے سے منع فرمایا ہے، بایں ہمہ یہ حکم وجوبی نہیں، اگر کسی کو اس کی ضروریات اور حاجت یا دینی مشغلہ یا دیگر فضائل کی وجہ سے زیادہ دیدے اور مقصود دوسرے کو نقصان پہنچانا نہ ہو تب بھی منع نہیں بلکہ جائز ہے، اور نعمان بن بشیر کا واقعہ احادیث میں مذکور ہے، جس سے مساوات کا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو