اپنی جائیداد کو اپنی زندگی میں ورثہ پر تقسیم کرنا
سوال
(۱) زید ابھی حیات ہے، لیکن بطور حفظ ما تقدم کہ آئندہ اہل میں جھگڑا وفساد نہ ہو اس لئے زندگی ہی میں اندازہ سے تقسیم جائیداد فرمارہے ہیں، درست ہے یا نہیں؟ (۲) کیا زید چونکہ ابھی حیات ہے اس لئے ساری جائیداد اس کی ملک ہے،اس لئے اپنی زندگی میں جس کو جتنا چاہے دینے کا شرعاً مجاز ہے، یا نہیں؟ ایسا کرنے پر ورثاء راضی نہیں ہیں۔ (۳)
جواب
زید اپنی زندگی میں اپنی مملوکہ جائیداد میں تصرف کا مختار ہے جس کو جس قدر مناسب سمجھے دیدے کسی کو اعتراض کا حق نہیں، البتہ اتنا ضرور ہے کہ کسی ہونے والے وارث کو طبعی رنج کی وجہ سے ضرر پہنچانا مقصود نہ ہو اس لئے ایسی حالت میں مفتیٰ بہ قول کے مطابق لڑکی کو بھی لڑکے کے برابر حصہ دیا جائے،آٹھواں حصہ نکال کر موجودہ بیوی کو دیا جائے، بقیہ کو گیارہ حصے بنا کر ہر دو بیویوں سے پیدا شدہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔