ہبہ میں بعض اولاد کو بعض پر فضیلت دینا
سوال
ایک شخص وقف علی الاولاد کرنا چاہتا ہے، یا اولاد کو ہبہ کرنا چاہتا ہے، اور اس میں تفریق و ترجیح کا طریقہ اختیار کرنا چاہتا ہے، بعض اولاد کو قریباً کل منافع وقف یا ہبہ کرنا چاہتا ہے، اور بعض کو ایسا جز جو غیر معتد بہ ہو دیتا ہے، تو یہ تفضیل و ترجیح شرعاً درست ہے یا نہیں؟ اور نعمان ابن بشیرؓ صحابی کا قصہ جنہوں نے اپنی بعض اولاد کو بعض اولاد پر ہبہ اور عطیہ میں ترجیح دی تھی، مہربانی فرما کر اس کا ترجمہ فرمادیا جائے؟
جواب
تفریق و ترجیح بلا وجہ شرعی گناہ ہے، یعنی اگر ایک کو نقصان پہنچانا مقصود ہو اور دوسرے کو نفع پہونچانا مقصود ہو اور کوئی وجہ شرعی اس نفع اور نقصان کی نہ ہو تو ایسا کرنا گناہ ہے تاہم ایسا کرنے سے ہبہ صحیح ہو جائے گا، یعنی جس کو کم ملا ہے، اس کو شرعاً حق نہیں کہ وہ زیادہ والے سے ہبہ کرائے، اور اگر کوئی وجہ شرعی ہے مثلاً یہ کہ جس کو زیادہ دیتا ہے، وہ صالح اور دیندار ہے اور اسی وجہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔