ہبہ میں قبضہ شرط ہے ورنہ وراثت ہوگی
سوال
(۱) زید نے دو نکاح کئے پہلی بیوی سے دو لڑکے اور چار لڑکیاں اور دوسری بیوی سے ایک لڑکا ہے، زید کے دو مکان ہیں، ایک نیا ایک پرانا ہے، زید نے پرانے مکان کا تمام سامان اپنی پہلی بیوی کی اولاد میں تقسیم کر دیا تھا، اور مکان پر خود قابض رہے تھے اور مکان میں خود تصرف کرتے رہے، پہلی بیوی کے دولڑکوں کو کچھ حصہ رہنے کے لئے دیا، اس کا کرایہ بھی ان سے وصول کرتے رہے، کچھ حصہ جو دوسرے کرایہ داروں کو دیا تھا، اس کا کرایہ بھی خود ہی وصول کرتے رہے، پھر پرانے حصہ کا کچھ دوسری بیوی کے لڑکے کو اس کی شادی کے دو تین سال بعد ہبہ کر دیا،…
جواب
اس قدیم تحریر کے تسلیم کرنے میں تأمل ہے، وہ یہ کہ ”جن پرانے مکان کے متعلق پہلی بیوی کے لڑکوں کو دینا“ تحریر ہے، زید کا عمل اس سے انکار کرتا ہے، کیونکہ زندگی بھر اس مکان پر خود قابض و متصرف رہا، اور کرایہ وصول کرتا رہا، حتیٰ کہ اپنے لڑکوں کو جو حصہ دینے کے لئے دیا، ان سے بھی کرایہ وصول کیا جیسا کہ دوسرے کرایہ داروں سے، اگر واقعۃً یہ تحریر زید کی ہو اور اس نے ہبہ کر بھی دیا ہو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔