الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

لڑکی کو ایک تہائی ہبہ لڑکے کو دو تہائی

سوال

زید کے ایک دختر اور ایک خوردسال پسر تھا، جوان ہونے پر دختر کی شادی کر دی اور اپنا اثاث البيت بقدر ایک تہائی کے بطور جہیز کے اس کی شادی میں دیدیا تھا، بقایا دو تہائی اس بھائی خورد سالہ کے لئے محفوظ رکھا کہ وہ جب بالغ ہو جائے اپنے سامان کو تصرف میں لائے، اور زید بیمار ہو گیا، زید کی بیماری کی حالت میں تہائی سامان بھائی کا بہن لے گئی، اور اپنا تہائی سامان مقفل کر کے اسی مکان میں رہنے دیا، بھائی نے بالغ ہو کر بہن کے ایک تہائی کو اپنا بیان کر کے عدالت میں دعویٰ دائر کر دیا، اور عدالت نے سامان مذکور بھائی کو دیدیا، کیا…

جواب

جو سامان اپنی صحت اور تندرستی کی حالت میں زید نے اپنی لڑکی کے حوالہ کر دیا، اس میں تو کوئی تردد نہیں کہ وہ لڑکی کی ملک ہے اور جو باقی رہا وہ اگر اپنے چھوٹے بچے کو ہبہ کر دیا کہ میں اس کو دے چکا ہوں یہ اس کی ملک ہے، تو وہ سب اس لڑکے کی ملک ہو گیا،اس میں لڑکی یا کسی دوسرے وارث کا کوئی حصہ نہیں، ایسی حالت میں بہن نے جو بھائی کا سامان لیا ہے، وہ غصب اور ناجائز ہے، اس کے ذمہ واجب…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو