الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ہبہ مشاع

سوال

ایک قطعہ مکان میں ۷/۲ /سهام عبدالوہاب اور ۵ سهام حاجی عبدالرزاق کا حق وحصہ ہے، اور ان لوگوں کے مابین مکان کی تقسیم نہیں ہوئی ہے، اور تاحیات ان لوگوں کے مکان مشترک رہ گئے، علاوہ ازیں ایک قطعہ مکان مملوکہ و مقبوضہ حاجی عبدالرزاق، حاجی صاحب کے تین لڑکے عبدالرب، عبدالحفیظ، عبد المجید، باحیات ہیں، ایک لڑکا عبدالعزیز حاجی صاحب کی حیات میں انتقال کر گیا، عبدالعزیز کے دولڑکے ممتاز احمد و شبیر احمد ہیں، حاجی عبدالرزاق و عبدالوہاب کے ورثاء میں تقسیم مکان کے بارے میں نزاع پڑگئی،شبیر احمد ایک ہبہ نامہ کے ذریعہ ہر دو مکانات…

جواب

چھوٹی کوٹھری جو تقسیم ہو کر قابل انتفاع نہ رہے اسکے جز کو بلا تقسیم بھی ہبہ کرنا درست ہے، بڑا مکان جو تقسیم ہونے کے بعد قابل انتفاع باقی رہتا ہے، اس جز کو بلا تقسیم کے ہبہ کرنا درست نہیں، غیر کی ملک کو ہبہ کرنا بھی بے محل ہے ” وتصح هبة مشاع لا يحتمل القسمة أى ليس من شأنه أن يقسم بمعنى لا يبقى منتفعا به بعد القسمة اصلا كعبد ودابة ولا يبقى منتفعا به بعد القسمة من جنس الانتفاع…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو