ہبہ مشاع
سوال
ایک شخص دو ہفتہ سے حبس بول میں مبتلا تھا جب وہ کسی ترکیب و علاج سے دفع نہیں ہوا اور تکالیف مرض حد سے گذر کر امید صحت و زندگی بالکل باقی نہیں رہی تب اس حالت ناامیدی و تعطل عقل میں مریض نے اپنی جائیداد غیر منقولہ کا۔ جو از قسم زمینداری دوکانات و مکانات سکنی کی تھی، اپنے چاروں لڑکوں کے نام بلا تصریح ان کے حصص باہمی کا ہبہ نامہ لکھدیا اور اس میں یہ بھی لکھدیا کہ موہوب لہ کو ہم نے قبضہ دے دیا مگر در حقیقت کسی قسم کا قبضہ واقعی و غیر واقعی اس وقت اب تک نہیں دیا گیا، واہب بدستور سابق قابض و دخیل ہے، اور اختیارات مالکانہ…
جواب
صورت مسئولہ میں جو ہبہ نامہ تحریر ہوا اس کی وجہ سے لڑکوں کو قبضہ اور مطالبہ کا حق نہیں کیونکہ ہبہ کے لئے ایجاب و قبول ضروری ہے، اگر قبول نہ ہو تو قبضہ ضروری ہے، مجلس عقد میں قبضہ بلا اذن واہب درست ہوتا ہے، اور بعد المجلس واہب کے منع کرنے کی صورت میں درست نہیں ہوتا، اور اذن کی صورت میں درست ہوتا ہے، نیز تعطل حواس کی حالت میں جبکہ مرض کی وجہ سے عقل مخبوط ہو چکی ہو، عقد ہبہ وغیرہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔