حج کے لئے حیلہ تملیک
سوال
احقر کو میراثی ترکہ سے حصہ ملا ہے، کل تین سو روپیہ ہیں، وہ اس طرح کہ مرحومہ بیوی کے حصہ میں باپ کا ترکہ کل نو صد روپیہ آیا، جس کے حسب وصیت مرحومہ تین حصہ کئے گئے، ایک حصہ مرحومہ کی بہن کو ملا، اور ایک احقر کو اور ایک حصہ مرحومہ کے ایصال ثواب کا نکالکر ڈیڑھ سو میرے پاس ہیں اور ڈیڑھ سو مرحومہ کی بہن کے پاس میں، گویاڈیڑھ سوایصال ثواب میں، میں صرف کروں گا، اور ڈیڑھ سو مرحومہ کی بہن صرف کرے گی، چونکہ مرحومہ کی بیماری میں صب روپیہ بھی دوا کے لئے بھیجے تھے، جو مر حومہ کی کچھ دوا میں لگ گئے باقی ماندہ کچھ مرحومہ اپنے ہاتھ…
جواب
اسکی بہتر صورت یہ ہے کہ وہ یکصد روپیہ کسی غریب کو برائے ایصال ثواب دیدیا جائے وہ اگر اپنی خوشی سے آپ کو دیدے تو پھر آپ اس کو اپنے صرف میں لا سکتے ہیں مرحومہ نے آپ کو اس روپیہ کے مصرف خیر پر صرف کرنے کا وکیل بنایا ہے، خود رکھنے کی اجازت نہیں دی، اس لئے بغیر تملیک کے آپ کو خود رکھنا جائز نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔