الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حاجی کا خطاب

سوال

حجاج کرام جب حج کر کے واپس لوٹتے ہیں تو انہیں حاجی کا خطاب دیا جاتا ہے، اور کچھ لوگ خود ہی حاجی لکھنے لگتے ہیں، عوام کو حاجی کے خطاب سے پکارنا درست ہے یا نہیں؟ یہاں لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ صحابہ کرام نے بھی حج کئے اور رسول اکرم ہمیشہ ہی حج کیا، لیکن کہیں بھی حاجی کا خطاب نظر نہیں آتا، شرع سے اسکی تفصیل لکھیں؟

جواب

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حاجی کے لفظ سے خطاب نہیں کیا جاتا اور اس کی ضرورت بھی نہیں تھی، اس لئے کہ ان کے مناقب وفضائل بے شمار تھے، اور حج تو وہاں کے مشرک بھی کرتے تھے، ہمارے یہاں جس غریب کے پاس کوئی فضائل ومناقب نہیں اس کو حاجی کہ کر کچھ تعظیم وتکریم کر لی جائے، تو اس میں مضائقہ نہیں، لیکن حاجی کو اس کا منتظر رہنا یا خواہش مند رہنا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو