حجاج کے لئے نعرہ تکبیر اور پھولوں کے ہار
سوال
پندرہ بیس سال سے یہ رواج ہو گیا ہے کہ حجاج کو رخصت کرتے وقت اور واپسی میں ان کے استقبال کے وقت لوگ پھولوں کے ہار ان کے گلے میں ڈالتے ہیں، اور جوش وخروش کے ساتھ نعرہ تکبیر بلند کرتے ہیں، زید اس فعل کو بدعت مکروہ اور ریا کاری دو نمائش پر محمول کرتے ہوئے ناجائز سمجھتا ہے، اور بکر اسے فعل مباح اور نعرہ تکبیر کو مستحسن اور بلندی شعائر اسلام سمجھتا ہے دونوں میں کس کا قول صحیح ہے، بینوا توجروا؟
جواب
ابتداء نعرہ تکبیر بلندی شعائر اسلام کیلئے تجویز ہوا تھا، چنانچہ حضرت عمرؓ کا اسلام قبول کرنا ابو جہل کا مقتول ہونا، قلعۂ انطاکیہ کا فتح ہونا وغیرہ وغیرہ ایسے ہی مواقع پر نعرہ تکبیر کا ثبوت ملتا ہے، مگر اب تو محض نمائش ہی ہے، خاص کر ہندی لوگوں کیلئے بلکہ اکثر مواقع میں لہو ولعب کی صورت ہو جاتی ہے، اس لئے اس سے اجتناب ہی بہتر ہے، پھولوں کا ہار ڈالنا سلف صالحین سے کہیں ثابت نہیں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔